کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مکاتب کرنے کا بیان
باب
جس چیز کا پہننا مکروہ ہے اس کا ہدیہ بھیجنا۔
حدیث نمبر
2430
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً سِيَرَائَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ قَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ثُمَّ جَائَتْ حُلَلٌ فَأَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً وَقَالَ أَکَسَوْتَنِيهَا وَقُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَکْسُکَهَا لِتَلْبَسَهَا فَکَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ بِمَکَّةَ مُشْرِکًا
عبد ﷲ بن مسلمہ مالک نافع عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک ریشمی حلہ مسجد کے دروازے کے پاس فروخت ہوتا ہوا دیکھا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کاش آپ اس کو خرید لیتے تاکہ جمعہ اور وفد آنے کے دن پہنیں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ وہی شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں پھر چند ریشمی حلے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو اس میں سے ایک حلہ دیا حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مجھے یہ پہناتے ہیں حالانکہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حلہ عطارد کی بابت اس طرح فرمایا تھا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں یہ پہننے کو نہیں دیا چناچہ حضرت عمر نے اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ میں تھا پہننے کو دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment