کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مکاتب کرنے کا بیان
باب
دلہن کے لیے زفاف کے وقت کوئی چیز مستعار لینے کا بیان۔
حدیث نمبر
2445
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَعَلَيْهَا دِرْعُ قِطْرٍ ثَمَنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ فَقَالَتْ ارْفَعْ بَصَرَکَ إِلَی جَارِيَتِي انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهَا تُزْهَی أَنْ تَلْبَسَهُ فِي الْبَيْتِ وَقَدْ کَانَ لِي مِنْهُنَّ دِرْعٌ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا کَانَتْ امْرَأَةٌ تُقَيَّنُ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا أَرْسَلَتْ إِلَيَّ تَسْتَعِيرُهُ
ابو نعیم عبدالواحدبنا ایمن ایمن سے روایت کرتے ہیں انھوں نے بیان کیا کہ میں حضرت عائشہ کے پاس گیا تو وہ قطر کا ایک کرتہ پہنے ہوئی تھیں جس کی قیمت پانچ درہم تھی انہوں نے مجھ سے کہا کہ میری اس لونڈی کو تو دیکھو کہ گھر میں اس کپڑے کے پہننے سے انکار کرتی ہے حالانکہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں میرے پاس ایسا ہی کرتا تھا مدینہ میں جب کسی عورت کو بھی (بوقت شادی) آراستہ کرنے کی ضرورت ہوتی تو میرے پاس آدمی بھیج کر مجھ سے منگوا لیتی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment