کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
گواہیوں کا بیان
باب
چھپے ہوئے آدمی کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر
2455
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّی إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَی فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ أَوْ زَمْزَمَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ أَيْ صَافِ هَذَا مُحَمَّدٌ فَتَنَاهَی ابْنُ صَيَّادٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَکَتْهُ بَيَّنَ
ابو الیمان شعیب زہری سالم عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے تھے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اور ابی بن کعب انصاری اس باغ کے ارادہ سے روانہ ہوئے جہاں ابن صیاد تھا یہاں تک کہ جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو آپ درختوں کی آڑ میں چھپ چھپ کر چلنے لگے تاکہ ابن صیاد آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ نہ سکے اور اس کی بات سن لیں اور ابن صاید اپنے فرش پر ایک چادر میں اپنا منہ لپیٹے ہوئے لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا لیکن ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اس حال میں کہ آپ درختوں کی آڑ میں چلے آرہے تھے تو اس کی ماں نے پکار کر کہا کہ اے صاف! یہ محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) آگئے ابن صیاد یہ سن کر خامو ش ہوگیا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو حال معلوم ہوجاتا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment