کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وکالہ کا بیان
باب
جب وکیل یا کسی قوم کے سفارشی کو کوئی چیز ہبہ کرے تو جائز ہے۔
حدیث نمبر
2154
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ وَزَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَائَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِحْدَی الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيَ وَإِمَّا الْمَالَ وَقَدْ کُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَی الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَکُمْ هَؤُلَائِ قَدْ جَائُونَا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ يُطَيِّبَ بِذَلِکَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ يَکُونَ عَلَی حَظِّهِ حَتَّی نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيئُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْکُمْ فِي ذَلِکَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّی يَرْفَعُوا إِلَيْنَا عُرَفَاؤُکُمْ أَمْرَکُمْ فَرَجَعَ النَّاسُ فَکَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا
سعید بن عفیر، لیث عقیل، ابن شہاب، عروہ، مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جب ہوازن کا وفد آیا، تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ سے ان لوگوں نے درخواست کی کہ ان کے قیدی واپس کر دئیے جائیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سچی بات بہت پسندیدہ ہے اس لیے دوباتوں میں سے ایک بات کو اخیتار کرو یا تو قیدی واپس لو یا مال، اور میں نے تو ان کے آنے کا (جعرانہ) میں انتظار کیا تھا، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کا دس راتوں سے زائد انتظار کیا، جب طائف سے واپس ہوئے تھے چناچہ جب ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم دو چیزوں میں سے ایک ہی چیز واپس کریں گے، تو ان لوگوں نے کہا ہم اپنے قیدیوں کو اختیار کرتے ہیں (یعنی قیدیوں کو واپس کر دیجئے) رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور ﷲ کی تعریف بیان کی، جس کا وہ مستحق ہے پھر فرمایا، اما بعد تمہارے یہ بھائی ہمارے پاس تائب ہو کر آئے ہیں اور میرا خیال ہے کہ انکے قیدی ان کو واپس کر دوں، اس لئے جو شخص بطیب خاطر (بخوشی) واپس کرنا چاہے، تو واپس کر دے اور جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کا حصہ باقی رہے اس طور پر کہ جو سب سے پہلی فتح ہو گی تو ہم اس کا عوض دے دیں گے، تو ایسا کرے، لوگوں نے کہا کہ ہم ان لوگوں کو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی کی خاطر بلا معاوضہ دے دیں گے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اس کو منظور کیا اور کس نے نا منظور کیا تم لوگ لوٹ جاؤ اور تمہارے سردار ہمارے پاس آ کر بیان کریں لوگ لوٹ گئے ان سے اس کے سرداروں نے گفتگو کی پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹ کر آئے تو ان لوگوں نے بیان کیا کہ لوگ قید ی واپس کرنے پر راضی ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment