کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وکالہ کا بیان
باب
ایک شخص نے کسی کو کچھ دینے کے لیے وکیل بنایا اور یہ نہیں بیان کیا کہ کتنا دے اور وہ دستور کے مطابق دیدے
حدیث نمبر
2155
حَدَّثَنَا الْمَکِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَغَيْرِهِ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَی بَعْضٍ وَلَمْ يُبَلِّغْهُ کُلُّهُمْ رَجُلٌ وَاحِدٌ مِنْهُمْ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَکُنْتُ عَلَی جَمَلٍ ثَفَالٍ إِنَّمَا هُوَ فِي آخِرِ الْقَوْمِ فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هَذَا قُلْتُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا لَکَ قُلْتُ إِنِّي عَلَی جَمَلٍ ثَفَالٍ قَالَ أَمَعَکَ قَضِيبٌ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَعْطِنِيهِ فَأَعْطَيْتُهُ فَضَرَبَهُ فَزَجَرَهُ فَکَانَ مِنْ ذَلِکَ الْمَکَانِ مِنْ أَوَّلِ الْقَوْمِ قَالَ بِعْنِيهِ فَقُلْتُ بَلْ هُوَ لَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَلْ بِعْنِيهِ قَدْ أَخَذْتُهُ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ وَلَکَ ظَهْرُهُ إِلَی الْمَدِينَةِ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ أَخَذْتُ أَرْتَحِلُ قَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قُلْتُ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً قَدْ خَلَا مِنْهَا قَالَ فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُکَ قُلْتُ إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ وَتَرَکَ بَنَاتٍ فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْکِحَ امْرَأَةً قَدْ جَرَّبَتْ خَلَا مِنْهَا قَالَ فَذَلِکَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ يَا بِلَالُ اقْضِهِ وَزِدْهُ فَأَعْطَاهُ أَرْبَعَةَ دَنَانِيرَ وَزَادَهُ قِيرَاطًا قَالَ جَابِرٌ لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَکُنْ الْقِيرَاطُ يُفَارِقُ جِرَابَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
مکی بن ابراہیم، ابن جریج، عطاء بن ابی رباح وغیرہ سے روایت ہے ایک نے دوسرے سے کچھ زیادتی کے ساتھ روایت کی سب نے اس کو جابر تک نہیں پہنچایا، بلکہ ان میں سے ایک شخص نے جابر بن عبدﷲ سے روایت کی انہوں نے کہا کہ میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا لیکن میں ایک سست اونٹ پر سوار تھا اور وہ سب سے پیچھے رہتا تھا چناچہ میرے پاس سے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم گزرے اور پوچھا کون ہے؟ میں نے عرض کیا، جابر بن عبدﷲ آپ نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے جواب دیا میں ایک سست رفتار اونٹ پر سوار ہوں آپ نے فرمایا تمہارے پاس کوئی چھڑی بھی ہے؟ میں نے عرض کی جی ہاں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے دیدو میں نے وہ چھڑی آپ کو دیدی آپ نے اس کو مارا اور ڈانٹا اس جگہ سے چلا تو سب سے آگے بڑھ گیا، آپ نے فرمایا اس کو میرے ہاتھ بیچ دو میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم یہ آپ ہی کا ہے یعنی بلا معاوضہ لے لیجئے) آپ نے فرمایا اس کو میرے ہاتھ بیچ دو پھر فرمایا کہ چار دینار کے عوض میں نے اس کو خرید لیا اور تو مدینہ تک اس پر سوار ہوگا؟ جب ہم مدنیہ کے قریب پہنچے تو میں اپنے مکا ن کی طرف روانہ ہوا آپ نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے ایک بیوہ عورت سے نکاح کیا ہے آپ نے فرمایا کنواری عورت سے کیوں نہ کیا کہ تو اس سے کھیلتا وہ تجھ سے کھیلتی؟ میں نے عرض کیا کہ میرا باپ مر گیا اور کئی بیٹیاں چھوڑ گیا- میں نے چاہا کہ ایسی عورت سے نکاح کروں جو تجربہ کارا ور بیوہ ہو، تو آپ نے فرمایا تو ٹھیک ہے جب ہم پہنچے تو آپ نے فرمایا اے بلال! جابر کو اس کی قیمت دیدو اور زیادتی کے ساتھ دو چناچہ مجھے چار دینار اور ایک قیراط سونا زیادہ دیا، جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا دیا ہوا ایک قیراط سونا ہم سے جدا نہیں ہوتا اور وہ جابر کی تھیلی میں برابر رہتا، کبھی جدا نہ ہوتا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment