Tuesday, February 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2170


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کھیتی اور بٹائی کے متعلق جو روایتیں منقول ہیں
باب
اس باب کا کوئی عنوان نہیں
حدیث نمبر
2170
بَاب حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ قَالَ کُنَّا أَکْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مُزْدَرَعًا کُنَّا نُکْرِي الْأَرْضَ بِالنَّاحِيَةِ مِنْهَا مُسَمًّی لِسَيِّدِ الْأَرْضِ قَالَ فَمِمَّا يُصَابُ ذَلِکَ وَتَسْلَمُ الْأَرْضُ وَمِمَّا يُصَابُ الْأَرْضُ وَيَسْلَمُ ذَلِکَ فَنُهِينَا وَأَمَّا الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ فَلَمْ يَکُنْ يَوْمَئِذٍ
محمد عبدﷲ ، یحیی بن سعید، حنظلہ بن قیس انصاری، رافع بن خدیج سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا اہل مدنیہ میں ہمارے کھیت بہت زیادہ تھے ہم زمین کرایہ پر دیا کرتے تھے، اس شرط پر کہ زمین کے ایک حصہ کی پیداوار زمین کے مالک کیلئے ہو گی، تو کبھی اس حصہ زمین پر آفت آجاتی اور باقی محفوظ رہتا، چناچہ اس سبب سے کہ بعض حصہ پر آفت آجاتی اور باقی حصہ محفوظ رہتا، ہم لوگوں کو اس سے منع کیا گیا اور اس زمانہ میں سونا، چاند ی کے عوض کرایہ پر دینے کا رواج نہ تھا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment