Tuesday, February 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2223


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
قرض لینےاور قرض ادا کرنے اور تصرف سے روک دینے اور مفلس ہوجانے کا بیان
باب
قرضوں کے ادا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2223
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَبْصَرَ يَعْنِي أُحُدًا قَالَ مَا أُحِبُّ أَنَّهُ تَحَوَّلَ لِي ذَهَبًا يَمْکُثُ عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا دِينَارًا أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْأَکْثَرِينَ هُمْ الْأَقَلُّونَ إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَکَذَا وَهَکَذَا وَأَشَارَ أَبُو شِهَابٍ بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ وَقَالَ مَکَانَکَ وَتَقَدَّمَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَسَمِعْتُ صَوْتًا فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ ثُمَّ ذَکَرْتُ قَوْلَهُ مَکَانَکَ حَتَّی آتِيَکَ فَلَمَّا جَائَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الَّذِي سَمِعْتُ أَوْ قَالَ الصَّوْتُ الَّذِي سَمِعْتُ قَالَ وَهَلْ سَمِعْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِکَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ فَعَلَ کَذَا وَکَذَا قَالَ نَعَمْ
احمد بن یونس، ابوشہاب، اعمش، زید بن وہب، ابوذر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، جب آپ نے احد کی طرف دیکھا، تو فرمایا مجھے پسند نہیں کہ یہ پہاڑ سونے کا ہو جائے اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی تین دن سے زیادہ رہے، مگر وہ دینار جو میں قرض ادا کرنے کیلئے رکھ لوں، پھر فرمایا جو لوگ زیادہ مال والے ہیں وہی زیادہ محتاج ہیں، مگر وہ لوگ جو اس طرح اور اس طرح خرچ کریں اور ابوشہاب نے اپنے دائیں بائیں اور آگے کی طرف اشارہ کیا، اور ایسے لوگ کم ہیں اور فرمایا اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو، تھوڑی دور آگے بڑھے، میں نے کچھ آواز سنی تو میں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانا چاہا پھر مجھے آپ کا حکم یاد آیا کہ یہیں ٹھہرے رہو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آؤں جب آپ تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم وہ کیا چیز تھی جو میں نے سنی یا وہ آواز جو میں نے سنی؟ آپ نے پوچھا کیا تم نے سنا تھا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، آپ نے فرمایا کہ میرے پاس جبرائیل آئے اور کہا کہ تمہاری امت میں سے جو شخص مر جائے اس حال میں کہ کسی کو ﷲ کا شریک نہ بناتا ہو تو جنت میں داخل ہو گا میں نے کہا اگرچہ ایسے ایسے کام کرے انہوں نے کہا ہاں۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment