کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
قرض لینےاور قرض ادا کرنے اور تصرف سے روک دینے اور مفلس ہوجانے کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جو لوگوں کا مال اس کے ادا کرنے یا ضائع کرنے کی نیت سے لے۔
حدیث نمبر
2222
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَائَهَا أَدَّی اللَّهُ عَنْهُ وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ
عبدالعزیز بن عبدﷲ اویسی، سلیمان بن بلال، ثور بن زید، ابوالغیث ابوہریرہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ جس نے لوگوں کا مال اس کے ادا کرنے کی نیت سے لیا، تو ﷲ تعالی اس کیطرف سے ادا کر دیتا ہے اور جو شخص اس کو ضائع کرنے کی نیت سے لے، تو ﷲ تعالی اس کو تباہ کر دیتا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment