کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جھگڑوں کا بیان
باب
جھگڑنے والوں میں سے ایک کا دوسرے کے متعلق گفتگو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2249
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ فَقَالَ الْأَشْعَثُ فِيَّ وَاللَّهِ کَانَ ذَلِکَ کَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَکَ بَيِّنَةٌ قُلْتُ لَا قَالَ فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ احْلِفْ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا يَحْلِفَ وَيَذْهَبَ بِمَالِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا إِلَی آخِرِ الْآيَةِ
محمد، ابومعاویہ، اعمش، شقیق، عبدﷲ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص قصدا جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال مار لے تو ﷲ سے اس حال میں ملے گا کہ ﷲ تعالی اس پر ناراض ہو گا، اشعث نے کہا قسم ہے خدا کی، آپ نے یہ حدیث میرے ہی متعلق ارشاد فرمائی، میرے اور ایک یہودی کے درمیان زمین مشترک تھی، اس نے میرے حق کا انکار کیا، میں اس کو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آیا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا، کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟ میں نے کہا نہیں، پھر آپ نے یہودی سے فرمایا تو قسم کھا، میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! وہ تو قسم کھا لے گا اور میرا مال مار لے گا تو ﷲ تعالی نے (إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا ) اخر آیت تک نازل فرمائی (بے شک جو لوگ ﷲ کے عہد کے ساتھ اور اپنی قسموں کے ساتھ تھوڑی قیمت خرید تے ہیں) -
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment