کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جھگڑوں کا بیان
باب
جھگڑنے والوں میں سے ایک کا دوسرے کے متعلق گفتگو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2250
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ کَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ تَقَاضَی ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا کَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّی سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا حَتَّی کَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ فَنَادَی يَا کَعْبُ قَالَ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ضَعْ مِنْ دَيْنِکَ هَذَا فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَيْ الشَّطْرَ قَالَ لَقَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُمْ فَاقْضِهِ
عبد ﷲ بن محمد، عثمان بن عمر، یونس، زہری، عبدﷲ بن کعب بن مالک، کعب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن ابی حدرد سے مسجد میں اپنے دین کا تقاضا کیا جو اس پر تھا، ان دونوں کی آواز بلند ہوئی یہاں تک کہ اسکو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے سنا، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس وقت اپنے حجرے میں تھے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اپنے حجرے کا پردہ اٹھا کر باہر تشریف لائے ، اور آواز دی کہ اے کعب! کعب نے کہا لبیک یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم! آپ نے فرمایا اپنا قرض اس قدر معاف کر دے اور اشارے سے بتلا یا کہ آدھا (معاف کر دے) کعب نے کہا کہ میں نے معاف کر دیا، یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم! آپ نے ابن ابی حدرد سے فرمایا، جا اور قرض ادا کر دے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment