کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جھگڑوں کا بیان
باب
جس شخص کی طرف سے شرارت کا اند یشہ ہو اس کے با ندھنے کا بیان
حدیث نمبر
2254
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَائَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا عِنْدَکَ يَا ثُمَامَةُ قَالَ عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ قَالَ أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ
قتیبہ، لیث، سعید بن ابی سعید، حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے تھے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا، وہ لوگ بنی حنیفہ کے ایک شخص کو جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا اور یمامہ والوں کا سردار تھا، گرفتار کر لائے اور مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا، پھر اس کے پاس رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا کہ اے ثمامہ تیرے پاس کیا ہے، اس نے کہا میرے پاس مال ہے، اور پوری حدیث بیان کی، آپ نے فرمایا ثمامہ کو چھوڑ دو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment