کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جھگڑوں کا بیان
باب
میت کے وصی کے دعوی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2253
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ اخْتَصَمَا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ أَنْ أَنْظُرَ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضَهُ فَإِنَّهُ ابْنِي وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَی فِرَاشِ أَبِي فَرَأَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ هُوَ لَکَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ
عبد ﷲ بن محمد سفیان، زہری، عروہ، عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ عبد بن زمعہ اور سعد بن ابی وقاص، زمعہ کی لونڈی کے لڑکے کے متعلق اپنا مقدمہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئے، سعد نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم! مجھ کو میرے بھا ئی نے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ پہنچوں اور زمعہ کی لونڈی کے لڑکے پر نظر پڑے تو اس پر قبضہ کر لوں اس لئے کہ،، میرا بیٹا ہے،، اور عبد بن زمعہ نے بیان کیا کہ وہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی صورت عتبہ سے ملتی جلتی دیکھی تو آپ نے فرمایا اے عبد بن زمعہ تو اس کا حقدار ہے لڑکا اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے اور اے سودہ! تو اس سے پردہ کر-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment