کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب
کھانے اور زادراہ اور اسباب میں شرکت کا بیان۔
حدیث نمبر
2314
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَفَّتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ وَأَمْلَقُوا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ إِبِلِهِمْ فَأَذِنَ لَهُمْ فَلَقِيَهُمْ عُمَرُ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ مَا بَقَاؤُکُمْ بَعْدَ إِبِلِکُمْ فَدَخَلَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَقَاؤُهُمْ بَعْدَ إِبِلِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادِ فِي النَّاسِ فَيَأْتُونَ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ فَبُسِطَ لِذَلِکَ نِطَعٌ وَجَعَلُوهُ عَلَی النِّطَعِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا وَبَرَّکَ عَلَيْهِ ثُمَّ دَعَاهُمْ بِأَوْعِيَتِهِمْ فَاحْتَثَی النَّاسُ حَتَّی فَرَغُوا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ
بشر بن مرحوم، حاتم بن اسمٰعیل، یزید بن ابی عبید، سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں کے توشے ختم ہو گئے اور لوگ محتاج ہو گئے، تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اپنے اونٹ کی اجازت چاہی تو آپ نے ان لوگوں کو اجازت دیدی، حضرت عمر لوگوں سے ملے تو لوگوں نے ان سے سارا ماجرا بیان کیا، حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اپنے اونٹ ذبح کرنے کے بعد تمہاری بقا کا کیا سامان ہے، پھر نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول ﷲ اپنے اونٹ ذبح کر نیکے بعد لوگ کس طرح جئیں گے؟ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ اپنا بچا ہوا سامان لے کر آئیں اور اس کے لیے ایک دسترخوان بچھایا گیا، پھر اسی پر وہ تمام تو شے رکھے گئے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان میں برکت کی دعا کی، پھر لوگوں کو ان کا برتن لے کر بلایا، تو لوگوں نے لپ بھر بھر کر لینا شروع کیا، جب لوگ لے چکے تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں ﷲ کا رسول ہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment