کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب
کھانے اور زادراہ اور اسباب میں شرکت کا بیان۔
حدیث نمبر
2313
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَأَنَا فِيهِمْ فَخَرَجْنَا حَتَّی إِذَا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ ذَلِکَ الْجَيْشِ فَجُمِعَ ذَلِکَ کُلُّهُ فَکَانَ مِزْوَدَيْ تَمْرٍ فَکَانَ يُقَوِّتُنَا کُلَّ يَوْمٍ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّی فَنِيَ فَلَمْ يَکُنْ يُصِيبُنَا إِلَّا تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ فَقُلْتُ وَمَا تُغْنِي تَمْرَةٌ فَقَالَ لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ قَالَ ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَی الْبَحْرِ فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ فَأَکَلَ مِنْهُ ذَلِکَ الْجَيْشُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنُصِبَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا فَلَمْ تُصِبْهُمَا
عبد ﷲ بن یوسف، مالک، وہب بن کیسان، جابر بن عبدﷲ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ساحل کی طرف ایک لشکر بھیجا، جس کا سردار ابوعبیدہ بن جراح کو مقرر کیا اور وہ لوگ تین سو آدمی تھے،میں بھی ان میں تھا،ہم لوگ باہر نکلے یہاں تک کہ راستہ ہی میں توشہ ختم ہو گیا،ابوعبیدہ نے حکم دیا کہ اس لشکر کے تمام لوگ اپنا توشہ ایک جگہ جمع کریں چناچہ وہ تمام توشے جمع کیے گئے، تو کل دو تھیلے کھجور کے ہوئے جس سے روزانہ تھوڑا تھوڑا ہم لوگوں کو دیا کرتے تھے، ہر آدمی کو ایک کھجور ملتی تھی، وہب نے کہا ایک کھجور سے کیا ہوتا ہو گا، جابر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا اس کی قدر اس وقت معلوم ہوئی جب بالکل ختم ہو گئی، راوی کا بیان کہ پھر ہم لوگ سمندر کے پاس پہنچے تو چھوٹی پہاڑی کی طرح ایک مچھلی نظر آئی، لشکر نے اس مچھلی کو اٹھارہ دن تک کھایا، پھر ابوعبیدہ نے حکم دیا تو اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں، پھر اونٹ کے گزرنے کا حکم دیا، تو اونٹ اس کے اندر سے نکل گیا اور پسلیاں اس کی نہیں لگیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment