کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب
بکریوں کے تقسیم کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2318
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَکَمِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ جَدِّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ فَأَصَابُوا إِبِلًا وَغَنَمًا قَالَ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ الْقَوْمِ فَعَجِلُوا وَذَبَحُوا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ فَأُکْفِئَتْ ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشَرَةً مِنْ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ وَکَانَ فِي الْقَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ فَأَهْوَی رَجُلٌ مِنْهُمْ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ کَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَکُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَکَذَا فَقَالَ جَدِّي إِنَّا نَرْجُو أَوْ نَخَافُ الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًی أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ قَالَ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُکِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَکُلُوهُ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُکُمْ عَنْ ذَلِکَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَی الْحَبَشَةِ
علی بن حکم انصاری، ابوعوانہ، سعید بن مسروق، عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ذی الحلیفہ میں تھے، لوگوں کو بھوک معلوم ہوئی، ان لوگوں کو اونٹ و بکریاں ملیں، رافع کا بیان ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پچھلے لوگوں میں تھے، چناچہ لوگوں نے جلدی کی اور غنیمت کی تقسیم سے پہلے ہی جانور ذبح کئے اور ہانڈیاں چڑھا دیں، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تو ہانڈیاں الٹ دی گئیں پھر آپ نے مال غنیمت کو تقسیم کیا، تو دس بکریاں ایک اونٹ کے عوض رکھیں- ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا، اس کو پکڑنا چاہا لیکن اس نے تھکا دیا، اس وقت لوگوں کے پاس گھوڑے کم تھے، ان میں سے ایک شخص نے اس کو تیر مارا تو ﷲ نے اس کو ٹھہرا دیا، پھر آپ نے فرمایا، ان چو پاپوں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح وحشی ہو جاتے ہیں، جب تم ان کو پکڑ نہ سکو تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو، میرے دادا نے کہا ہمیں خطرہ ہے کہ کل دشمن سے مقابلہ ہو گا، اور ہمارے پاس چھری نہیں، کیا ہم اس کو بانس سے ذبح کریں، آپ نے فرمایا (ہاں) جو چیز خون بہادے اور اس پر ﷲ کا نام لیا جائے تو اس کو کھالو، مگر دانت سے ذبح نہ کرو اور عنقریب میں تم سے اس کی وجہ بیان کروں گا- کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن وہ حبشیوں کی چھری ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment