کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب
کیا تقسیم میں اور حصہ لینے میں قرعہ اندازی کی جائے؟
حدیث نمبر
2323
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ قَالَ سَمِعْتُ عَامِرًا يَقُولُ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَی حُدُودِ اللَّهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَی سَفِينَةٍ فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلَاهَا وَبَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا فَکَانَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا إِذَا اسْتَقَوْا مِنْ الْمَائِ مَرُّوا عَلَی مَنْ فَوْقَهُمْ فَقَالُوا لَوْ أَنَّا خَرَقْنَا فِي نَصِيبِنَا خَرْقًا وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا فَإِنْ يَتْرُکُوهُمْ وَمَا أَرَادُوا هَلَکُوا جَمِيعًا وَإِنْ أَخَذُوا عَلَی أَيْدِيهِمْ نَجَوْا وَنَجَوْا جَمِيعًا
ابو نعیم، زکریا، عامر نعمان بن بشیر، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ﷲ کی مقرر کردہ حدوں پر قائم رہنے والے اور اس میں مبتلا ہونے والے کی مثال اس قوم کی ہے، جس نے ایک جہاز میں قرعہ اندازی کر کے اپنے حصے تقسیم کر لیے، بعض کے حصہ میں بلائی حصہ آیا اور دوسرں کے حصہ میں نیچے کا حصہ، نیچے کے لوگ اوپر والوں کے پاس پانی لینے گئے اور کہنے لگے کہ اگر ہم اپنے حصہ میں یعنی نچلے حصہ میں شگاف پیدا کر لیتے (تاکہ پانی لینے میں آسانی ہو) اور اوپر والوں کو ہم لوگوں (کی بار بار آمد و رفت سے تکلیف نہ ہو، پس اگر لوگ اس کو چھوڑ دیں اور ان کے ارادے کے مطابق کرنے دیں، تو سب ہلاک ہو جائیں اور اگر ان کے ہاتھ پکڑ لیں، تو خود بھی نجات پائیں، اور سب لوگ نجات پائیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment