Tuesday, February 15, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2324


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب
یتیم اور اہل میراث کی شرکت کا بیان۔
حدیث نمبر
2324
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيُّ الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَی وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لَا تُقْسِطُوا إِلَی وَرُبَاعَ فَقَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَکُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِکُهُ فِي مَالِهِ فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا فَيُعْطِيهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ فَنُهُوا أَنْ يُنْکِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَی سُنَّتِهِنَّ مِنْ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا أَنْ يَنْکِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنْ النِّسَائِ سِوَاهُنَّ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيَسْتَفْتُونَکَ فِي النِّسَائِ إِلَی قَوْلِهِ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوهُنَّ وَالَّذِي ذَکَرَ اللَّهُ أَنَّهُ يُتْلَی عَلَيْکُمْ فِي الْکِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَی الَّتِي قَالَ فِيهَا وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لَا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنْ النِّسَائِ قَالَتْ عَائِشَةُ وَقَوْلُ اللَّهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَی وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوهُنَّ يَعْنِي هِيَ رَغْبَةُ أَحَدِکُمْ لِيَتِيمَتِهِ الَّتِي تَکُونُ فِي حَجْرِهِ حِينَ تَکُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُهُوا أَنْ يَنْکِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَی النِّسَائِ إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ
عبدالعزیز بن عبدﷲ عامر ی اویسی، ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، عروہ، عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا اور لیث نے اس طرح سند بیان کی یونس ابن شہاب عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے ﷲ کے قول (وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لَا تُقْسِطُوا) سے رباع تک دریافت کیا تو انہوں نے کہا اے میرے بھانجے یہ آیت اس یتیم لڑکی کے متعلق ہے جو اپنے سر پرست کی نگرانی میں ہو اور اس کے مال میں شریک ہو، اس کا ولی اس کے مال اور خوبصورتی پر فریفتہ ہو کر چاہے کہ اس سے شادی کر لے لیکن مہر میں انصاف نہ کرے، اس طور پر کہ اس کو اتنا مہر نہ دے جتنا اس کو دوسرا دیتا، چناچہ انہیں اس سے منع کیا گیا کہ ان یتیم لڑکیوں سے نکاح کریں مگر یہ کہ ان کے ساتھ انصاف کریں (تو ان کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں) اور ان کی شان کے مطابق انہیں مہر دیں اور انہیں حکم دیا گیا کہ ان عورتوں کے سوا جن سے چاہیں نکاح کریں، عروہ کا بیان ہے، کہ حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ لوگوں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے اترنے کے بعد مسئلہ دریافت کیا، تو ﷲ تعالیٰ نے یہ آیت (وَيَسْتَفْتُونَکَ فِي النِّسَائِ - وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوهُنَّ) تک نازل فرمائی اور ﷲ تعالیٰ نے فرمایا اور (یتلی علیکم فی الکتاب) سے مراد پہلی آیت ہے جس میں کہا کہ اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیموں کے بارے میں انصاف سے کام نہ لے سکو گے تو نکاح کرو، ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ دوسری آیت میں ﷲ تعالیٰ کے قول (وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوهُنَّ) سے مراد اس یتیم لڑکی کی طرف تم سے کسی کا رغبت کرنا ہے جو تمہاری پر ورش میں ہوا اور مال و جمال کم رکھتی ہو (اس کی طرف تمہیں رغبت نہیں ہوتی) اس لیے جس یتیم لڑکی کے مال اور جمال میں تمہیں رغبت ہو اس سے بوجہ بے رغبتی کے نکاح کی ممانعت کر دی گئی- بشرطیکہ مہر پورا انصاف کے ساتھ دیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment