Tuesday, February 15, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2333


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب
قربانی کے جانور اور اونٹوں میں شریک ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر
2333
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ وَعَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ صُبْحَ رَابِعَةٍ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ لَا يَخْلِطُهُمْ شَيْئٌ فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً وَأَنْ نَحِلَّ إِلَی نِسَائِنَا فَفَشَتْ فِي ذَلِکَ الْقَالَةُ قَالَ عَطَائٌ فَقَالَ جَابِرٌ فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَی مِنًی وَذَکَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا فَقَالَ جَابِرٌ بِکَفِّهِ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ بَلَغَنِي أَنَّ أَقْوَامًا يَقُولُونَ کَذَا وَکَذَا وَاللَّهِ لَأَنَا أَبَرُّ وَأَتْقَی لِلَّهِ مِنْهُمْ وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ وَلَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لأَحْلَلْتُ فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هِيَ لَنَا أَوْ لِلْأَبَدِ فَقَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ قَالَ وَجَائَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا يَقُولُ لَبَّيْکَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ وَقَالَ الْآخَرُ لَبَّيْکَ بِحَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ عَلَی إِحْرَامِهِ وَأَشْرَکَهُ فِي الْهَدْيِ
ابو النعمان حماد بن زید عبدالملک بن جریج عطاء جابر وہ طاؤس ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کی صبح کا احرام باندھے ہوئے مکہ پہنچے حج کے ساتھ اور کسی چیز کا یعنی عمرہ وغیرہ کا احرام نہیں باندھا تھا جب ہم لوگ مکہ پہنچ گئے تو ہم لوگوں کو حکم دیا (کہ اس کو عمرہ بنا ڈالیں) ہم لوگوں نے اس کو عمرہ بنا ڈالا اور ہم لوگوں کو حکم دیا کہ احرام سے باہر ہو جائیں اپنی عورتوں سے صحبت کریں اس بارے میں صحابہ میں چرچا ہونے لگا عطاء کا بیان ہے کہ جابر نے کہا ہم سے بعض آدمی منیٰ کی طرف اس حال میں جاتا کہ منی اس کے عضو مخصوص سے ٹپکتی ہوتی اور جابر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے ہاتھوں سے اشارہ کیا اس کی خبر نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا بعض لوگ ایسی ایسی باتیں کہتے ہیں بخدا میں سب سے زیادہ نیکو کار اور ﷲ سے ڈرنے والا ہوں اگر مجھے پہلے سے یہ بات معلوم ہوتی جو اب معلوم ہوئی تو میں ہدی نہ بھیجتا اور اگر میرے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں احرام سے باہر ہو جاتا سراقہ بن مالک بن جعشم کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول ﷲ یہ حکم ہمارے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے جابر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا علی بن ابی طالب آئے (عطا اور طاؤس میں سے) ایک نے کہا کہ حضرت علی نے کہا لبیک بما اہل رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے نے کہا کہ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا لبیک بحجتہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ اپنے احرام پر قائم رہیں اور ان کو ہدی میں شریک کر لیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment