Tuesday, February 15, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2334


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب
تقسیم میں ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر سمجھنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر
2334
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ فَأَصَبْنَا غَنَمًا وَإِبِلًا فَعَجِلَ الْقَوْمُ فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا فَأُکْفِئَتْ ثُمَّ عَدَلَ عَشْرًا مِنْ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ ثُمَّ إِنَّ بَعِيرًا نَدَّ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلَّا خَيْلٌ يَسِيرَةٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ فَحَبَسَهُ بِسَهْمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ کَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَکُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَکَذَا قَالَ قَالَ جَدِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْجُو أَوْ نَخَافُ أَنْ نَلْقَی الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًی فَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ فَقَالَ اعْجَلْ أَوْ أَرْنِي مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُکِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَکُلُوا لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُکُمْ عَنْ ذَلِکَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَی الْحَبَشَةِ
محمد وکیع سفیان سعید بن مسروق (پدر سفیان) عبایہ بن رافع اپنے دادا رافع بن خدیج سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے علاقہ ذی الحلیفہ میں تھے ہم لوگوں کو غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں لوگوں نے جلدی کی اور ان جانوروں کا گوشت ہانڈیوں میں چڑھا دیا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے آپ نے حکم دیا تو ساری ہانڈیاں الٹ دی گئیں پھر تقسیم میں ایک اونٹ کے برابر دس بکریاں رکھی گئیں ایک اونٹ بھاگ نکلا اس وقت قوم میں سوار کم تھے ایک آدمی نے اس کو تیر مار کر روکا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ان چوپایوں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح وحشی ہو جاتے ہیں جو جانور تم پر غالب آ جائے یعنی تم اس کو نہ پکڑ سکو تو اس کے ساتھ یہی کرو عبایہ کا بیان ہے میرے دادا (رافع) نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مجھے امید ہے (یا یہ کہا) کہ مجھے ڈر ہے کہ ہم کل دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں تو کیا ہم اس کو بانس سے ذبح کریں؟ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جلدی کرو جو چیز خون بہا دے (کافی ہے) اور اس پر ﷲ کا نام لیا گیا ہو تو کھاؤ بشرطیکہ دانت اور ناخن نہ ہو اور میں تم سے عنقریب اس کی وجہ بیان کروں گا کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment