Tuesday, February 15, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2337


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
رہن کا بیان
باب
اسلحہ گروی رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2337
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لِکَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَی اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا فَأَتَاهُ فَقَالَ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ فَقَالَ ارْهَنُونِي نِسَائَکُمْ قَالُوا کَيْفَ نَرْهَنُکَ نِسَائَنَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ قَالَ فَارْهَنُونِي أَبْنَائَکُمْ قَالُوا کَيْفَ نَرْهَنُ أَبْنَائَنَا فَيُسَبُّ أَحَدُهُمْ فَيُقَالُ رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ هَذَا عَارٌ عَلَيْنَا وَلَکِنَّا نَرْهَنُکَ اللَّأْمَةَ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي السِّلَاحَ فَوَعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ فَقَتَلُوهُ ثُمَّ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ
علی بن عبدﷲ سفیان عمرو جابر بن عبدﷲ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ہے جو کعب بن اشرف کا کام تمام کرے اور اس نے ﷲ اور اس کے رسول صلی ﷲ علیہ وسلم کو تکلیف دی ہے محمد بن مسلمہ نے عرض کیا میں تیار ہوں چناچہ محمد بن مسلمہ اس کے پاس آئے اور ایک وسق یا دو وسق غلہ قرض لینے کا خیال ظاہر کیا تو اس نے کہا اپنی بیویوں کو میرے پاس گروی رکھ دو ان لوگوں نے کہا ہم کس طرح اپنی بیویوں کو گروی رکھ سکتے ہیں جب کہ تو عرب میں سب سے زیادہ حسین ہے اس نے کہا اپنے بیٹوں کو گروی رکھ دو ان لوگوں نے کہا ہم کس طرح اپنے بیٹوں کو گروی رکھ سکتے ہیں لوگ ان کو طعنہ دیں گے اور کہیں گے کہ ایک وسق یا دو وسق اناج کے عوض گروی رکھے گئے یہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے لیکن ہم لامہ یعنی اسلحہ تیرے پاس گروی رکھ سکتے ہیں چناچہ اس سے دوبارہ آنے کا وعدہ کر گئے پھر اس کے پاس آئے تو اسے قتل کر دیا پھر وہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے (ماجرا) بیان کیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment