Tuesday, February 15, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2342


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
رہن کا بیان
باب
راہن اور مرتہن میں اگر اختلاف ہو تو مدعی کے ذمہ گواہی پیش کرنا اور مدعا علیہ پر قسم کھانا واجب ہے۔
حدیث نمبر
2342
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِکَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا فَقَرَأَ إِلَی عَذَابٌ أَلِيمٌ ثُمَّ إِنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَا يُحَدِّثُکُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ فَحَدَّثْنَاهُ قَالَ فَقَالَ صَدَقَ لَفِيَّ وَاللَّهِ أُنْزِلَتْ کَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ فَاخْتَصَمْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ شَاهِدَاکَ أَوْ يَمِينُهُ قُلْتُ إِنَّهُ إِذًا يَحْلِفُ وَلَا يُبَالِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِکَ ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا إِلَی وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
قتیبہ بن سعید جریر منصور ابووائل سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ عبدﷲ بن مسعود نے کہا جس نے جھوٹی قسم کھائی تاکہ اس کے ذریعہ کسی کے مال کا مستحق ہو جائے تو وہ ﷲ سے اس ناراض ہو گا پھر ﷲ تعالیٰ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے یہ آیت اتاری کہ (ِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا ) اور (وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ) تک آیت پڑھی پھر اشعث بن قیس ہمارے پاس آئے اور پوچھا ابوعبدالرحمن (عبد ﷲ بن مسعود) تم سے کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟ ہم نے ان سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ سچ کہتے ہیں بخدا یہ آیت ہمارے بارے میں اتری ہمارے اور ایک شخص کے درمیان ایک کنویں کے متعلق جھگڑا ہوا تو ہم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا مقدمہ لے گئے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے ورنہ وہ قسم کھائے گا! میں نے عرض کیا وہ تو قسم کھا لے گا اور کچھ پرواہ نہ کرے گا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جھوٹی قسم کھائی تاکہ اس کے ذریعہ کسی کے مال کا مستحق ہو جائے تو ﷲ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غصہ ہو گا چناچہ ﷲ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت اتاری پھر یہ آیت (ِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا ) (وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ تک پڑھی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment