کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
رہن کا بیان
باب
دو آدمیوں کے درمیان کسی مشترک غلام یا چند شریکوں کے درمیان مشترک لونڈی کو کوئی شخص آزاد کر دے۔
حدیث نمبر
2348
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَکَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ الْعَبْدُ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ فَأَعْطَی شُرَکَائَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ
عبد ﷲ بن یوسف، مالک، نافع عبدﷲ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنا حصہ کسی غلام کا آزاد کر دیا اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ پورے غلام کی قیمت کے برابر ہو تواس غلام کی ٹھیک ٹھیک قیمت لگائی جائے گی اور ان کے شریکوں کو ان کے حصہ کی قیمت دے دےپھر وہ آزاد ہو جائے گا ورنہ بصورت تنگ دستی اس غلام کا اتنا ہی حصہ آزاد ہو گا جتنا اس نے آزاد کیا ہے۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment