کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
رہن کا بیان
باب
دو آدمیوں کے درمیان کسی مشترک غلام یا چند شریکوں کے درمیان مشترک لونڈی کو کوئی شخص آزاد کر دے۔
حدیث نمبر
2349
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَهُ فِي مَمْلُوکٍ فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ کُلُّهُ إِنْ کَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَهُ فَإِنْ لَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ فَأُعْتِقَ مِنْهُ مَا أَعْتَقَ
عبید بن اسماعیل، ابواسامہ، عبید ﷲ ، نافع، ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایاجس شخص نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا تو اس پر پورے غلام کا آزاد کرنا واجب ہے اگر اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کی قیمت کے برابر ہو اور اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ کسی عادل کی تجویز کے مطابق اس کی پوری قیمت ہو تو اس کا اتنا ہی حصہ آزاد ہو گا جتنا اس نے آزاد کیا ہے
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment