کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مکاتب کرنے کا بیان
باب
غلام اور سامان پر کس طرح قبضہ کیا جائے؟
حدیث نمبر
2420
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَقَالَ مَخْرَمَةُ يَا بُنَيَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَقَالَ ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي قَالَ فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَائٌ مِنْهَا فَقَالَ خَبَأْنَا هَذَا لَکَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ رَضِيَ مَخْرَمَةُ
قتیبہ بن سعید ابن ابی ملیکہ مسور بن مخرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے قبائیں تقسیم فرمائیں لیکن مخرمہ کو کچھ بھی نہیں دیا مخرمہ نے کہا اے میرے بیٹے میرے ساتھ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں چل میں ان کے ساتھ چلا تو انہوں نے کاہ کہ اندر جا اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو میرے واسطے بلا لا میں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو بلایاتو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اس حال میں کہ انہیں قباؤں میں سے ایک قبا پہنے ہوئے تھے آپ نے فرمایا ہم نے تیرے واسطے اس کو چھپا رکھا تھا مخرمہ نے اس کو دیکھا اور اس کو دیکھ کر خوش ہوگئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment