Wednesday, February 2, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2230


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
قرض لینےاور قرض ادا کرنے اور تصرف سے روک دینے اور مفلس ہوجانے کا بیان
باب
اور کوئی شخص قرض خواہ کے حق سے کم ادا کرے یا اس کو معاف کر دے تو جائز ہے۔
حدیث نمبر
2230
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَاشْتَدَّ الْغُرَمَائُ فِي حُقُوقِهِمْ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُمْ أَنْ يَقْبَلُوا تَمْرَ حَائِطِي وَيُحَلِّلُوا أَبِي فَأَبَوْا فَلَمْ يُعْطِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَائِطِي وَقَالَ سَنَغْدُو عَلَيْکَ فَغَدَا عَلَيْنَا حِينَ أَصْبَحَ فَطَافَ فِي النَّخْلِ وَدَعَا فِي ثَمَرِهَا بِالْبَرَکَةِ فَجَدَدْتُهَا فَقَضَيْتُهُمْ وَبَقِيَ لَنَا مِنْ تَمْرِهَا
عبدان، عبدﷲ ، یونس، ابن کعب بن مالک جابر بن عبدﷲ روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد جنگ احد میں شہید ہوئے اور ان پر قرض تھا، تو قرض خواہوں نے اپنے حقوق کے تقاضا میں سختی برتی، میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان قرض خواہوں سے فرمایا کہ میرے باغ کا پھل لے لیں، اور میرے والد کا باقی قرض معاف کر دیں، لیکن ان لوگوں نے انکار کیا تو آپ نے میرا باغ ان لوگوں کو نہ دیا، اور مجھ سے فرمایا کہ ہم تمہارے پاس صبح کے وقت آئیں گے، جب صبح کو آپ تشریف لائے، تو باغ میں گھومے اور پھل میں برکت کی دعا کی پھر میں نے ان پھلوں کو کاٹ لیا، اور ان کا سارا قرض ادا کر دیا اور میرے پاس کچھ کھجوریں بچ گئیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment