Wednesday, February 2, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2231


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
قرض لینےاور قرض ادا کرنے اور تصرف سے روک دینے اور مفلس ہوجانے کا بیان
باب
اگر کوئی شخص قرض خواہ سے گفتگو کرے یا قرض میں کھجور یا کسی اور چیز کے عوض اندازے سے دے۔
حدیث نمبر
2231
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا أَنَسٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَتَرَکَ عَلَيْهِ ثَلَاثِينَ وَسْقًا لِرَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ فَاسْتَنْظَرَهُ جَابِرٌ فَأَبَی أَنْ يُنْظِرَهُ فَکَلَّمَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَشْفَعَ لَهُ إِلَيْهِ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَلَّمَ الْيَهُودِيَّ لِيَأْخُذَ ثَمَرَ نَخْلِهِ بِالَّذِي لَهُ فَأَبَی فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ فَمَشَی فِيهَا ثُمَّ قَالَ لِجَابِرٍ جُدَّ لَهُ فَأَوْفِ لَهُ الَّذِي لَهُ فَجَدَّهُ بَعْدَمَا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَوْفَاهُ ثَلَاثِينَ وَسْقًا وَفَضَلَتْ لَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ وَسْقًا فَجَائَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُخْبِرَهُ بِالَّذِي کَانَ فَوَجَدَهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُ بِالْفَضْلِ فَقَالَ أَخْبِرْ ذَلِکَ ابْنَ الْخَطَّابِ فَذَهَبَ جَابِرٌ إِلَی عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ لَقَدْ عَلِمْتُ حِينَ مَشَی فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُبَارَکَنَّ فِيهَا
ابراہیم بن منذر، انس، ہشام، وہب، بن کیسان، جابر بن عبدﷲ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ انکے والد کی وفات ہوئی اور ایک یہودی کا قرض تیس وسق کھجور چھوڑ گئے جابر نے اس سے مہلت مانگی لیکن اس نے دینے سے انکار کیا، جابر نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تاکہ اس کی سفارش کر دیں، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور یہودی سے گفتگو کی کہ اپنے قرض کے عوض ان کے درخت کا پھل لے لے، لیکن اس نے انکار کیا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم با غ میں داخل ہوئے اور درختوں کے پاس گھومے، پھر جابر سے فرمایا کہ اس کو کاٹ لے اور اس کا قرض ادا کر دے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی واپسی کے بعد انہوں نے اس کو کاٹ لیا اور تیس وسق کھجور اس کو پورے دیدیے، اور سترہ وسق بچ گئی، جابر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے حال بیان کریں، آپ کو دیکھا کہ عصر کی نماز پڑھ رہے ہیں جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے کھجور کے بچ جانے کا حال بیان کیا، آپ نے فرمایا کہ اسے ابن خطاب سے بیان کر دو، چناچہ جابر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے اور ان سے بیان کیا تو حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ جب آپ باغ میں چل رہے تھے تو میں پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ کھجور میں برکت ہو گی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment