کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
قرض لینےاور قرض ادا کرنے اور تصرف سے روک دینے اور مفلس ہوجانے کا بیان
باب
بیع، قرض اور امانت میں اگر کوئی شخص اپنا مال مفلس کے پاس پائے تو وہ اس کا زیادہ مستحق ہے
حدیث نمبر
2237
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَدْرَکَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ أَوْ إِنْسَانٍ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِه قال ابوعبد الله هذه الاسناد کلهم علی القضائ يحيی بن سعيد وابوبکر بن محمدوعمربن عبدالعزيز وابوبکر بن عبد الرحمن وابوهريرة کانوا کلهم الی المدينة
احمد بن یونس، زہیر، یحیی بن سعید، ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم، عمر بن عبدالعزیز، ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے یا یہ کہا کہ میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے اپنا مال کسی آدمی کے پاس بعینہ پا لیا، جو مفلس ہو گیا، تو وہ اس مال کا زیادہ مستحق ہے، ابوعبد ﷲ کہتے ہیں اس سند کے تمام راوی مدینہ کی قضا پر مامور رہے یعنی یحیی بن سعید، ابوبکر بن محمد، عمر بن عبدالعزیز، ابوبکر بن عبدالرحمن اور ابوہریرہ-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment