کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
قرض لینےاور قرض ادا کرنے اور تصرف سے روک دینے اور مفلس ہوجانے کا بیان
باب
قرض میں کمی کرنے کی سفارش کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2239
حَدَّثَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُصِيبَ عَبْدُ اللَّهِ وَتَرَکَ عِيَالًا وَدَيْنًا فَطَلَبْتُ إِلَی أَصْحَابِ الدَّيْنِ أَنْ يَضَعُوا بَعْضًا مِنْ دَيْنِهِ فَأَبَوْا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَشْفَعْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا فَقَالَ صَنِّفْ تَمْرَکَ کُلَّ شَيْئٍ مِنْهُ عَلَی حِدَتِهِ عِذْقَ ابْنِ زَيْدٍ عَلَی حِدَةٍ وَاللِّينَ عَلَی حِدَةٍ وَالْعَجْوَةَ عَلَی حِدَةٍ ثُمَّ أَحْضِرْهُمْ حَتَّی آتِيَکَ فَفَعَلْتُ ثُمَّ جَائَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ عَلَيْهِ وَکَالَ لِکُلِّ رَجُلٍ حَتَّی اسْتَوْفَی وَبَقِيَ التَّمْرُ کَمَا هُوَ کَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ وَغَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی نَاضِحٍ لَنَا فَأَزْحَفَ الْجَمَلُ فَتَخَلَّفَ عَلَيَّ فَوَکَزَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَلْفِهِ قَالَ بِعْنِيهِ وَلَکَ ظَهْرُهُ إِلَی الْمَدِينَةِ فَلَمَّا دَنَوْنَا اسْتَأْذَنْتُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ قَالَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَزَوَّجْتَ بِکْرًا أَمْ ثَيِّبًا قُلْتُ ثَيِّبًا أُصِيبَ عَبْدُ اللَّهِ وَتَرَکَ جَوَارِيَ صِغَارًا فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا تُعَلِّمُهُنَّ وَتُؤَدِّبُهُنَّ ثُمَّ قَالَ ائْتِ أَهْلَکَ فَقَدِمْتُ فَأَخْبَرْتُ خَالِي بِبَيْعِ الْجَمَلِ فَلَامَنِي فَأَخْبَرْتُهُ بِإِعْيَائِ الْجَمَلِ وَبِالَّذِي کَانَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَکْزِهِ إِيَّاهُ فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْجَمَلِ فَأَعْطَانِي ثَمَنَ الْجَمَلِ وَالْجَمَلَ وَسَهْمِي مَعَ الْقَوْمِ
موسی، ابوعوانہ، مغیرہ، عامر، جابر سے روایت ہے کہ عبدﷲ شہید ہوئے اور اہل و عیال اور قرض چھوڑ گئے، میں نے قرض خواہوں سے درخواست کی کہ کچھ قرض معاف کر دیں، ان لوگوں نے انکار کیا تو میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، اور ان لوگوں سے سفارش کی درخواست کی، ان لوگوں نے ماننے سے انکار کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہر قسم کی کھجوروں کو علیحدہ علیحدہ رکھو، عذق بن زید کو ایک طرف، لین کو دوسری طرف اور عجوہ الگ رکھو، پھر ان قرض خواہوں کو بلاؤ یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آؤں، چناچہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور کھجور کے ڈھیر پر بیٹھ گئے اور ہر شخص کو ناپ کر دینے لگے، یہاں تک کہ پورا قرض ادا کر دیا اور کھجور اسی طرح رہی، جیسے پہلی تھی گویا کسی نے اس کو ہاتھ نہ لگایا تھا، اور میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد میں ایک پانی بھرنے والے اونٹ پر سوار ہو کر گیا، وہ اونٹ تھک گیا، اور مجھے پیچھے کر دیا، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پیچھے سے اس کو ڈنڈا مارا، آپ نے فرمایا اس کو میرے ہاتھ بیچ دو اور تمہیں مدینہ تک اس پر سواری کرنے کا حق ہو گا، جب ہم مدینہ کے قریب آئے تو میں نے (جلدی جانے کی) اجازت مانگی اور میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میں نے نئی شادی کی ہے، تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو نے کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا بیوہ سے چونکہ عبدﷲ شہید ہو گئے ہیں اور چھوٹی چھوٹی لڑکیاں چھوڑیں ہیں، اس لیے میں نے بیوہ سے شادی کی، تاکہ وہ انہیں علم وادب سکھائے، پھر آپ نے فرمایا اپنی بیوی کے پاس جا چناچہ میں گیا، پھر میں نے اپنے ماموں سے اونٹ کے بیچنے کا حال بیان کیا تو انہوں نے مجھے ملامت کی، میں نے ان سے اونٹ کے تھک جانے اور نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ اور اونٹ کو آپ کے ڈنڈا مارنے کا حال بیان کیا، جب نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مدینہ پہنچ گئے تو میں اونٹ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا آپنے مجھے اونٹ کی قیمت اور اونٹ بھی دے دیا اور قوم کے ساتھ مال غنیمت میں مجھ کو حصہ بھی دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment