اب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جھگڑوں کا بیان
باب
قرض دار کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے اور مسلمان اور یہودی میں جھگڑا ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر
2244
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ قَزَعَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ قَالَ الْمُسْلِمُ وَالَّذِي اصْطَفَی مُحَمَّدًا عَلَی الْعَالَمِينَ فَقَالَ الْيَهُودِيُّ وَالَّذِي اصْطَفَی مُوسَی عَلَی الْعَالَمِينَ فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِکَ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا کَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِکَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُخَيِّرُونِي عَلَی مُوسَی فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَصْعَقُ مَعَهُمْ فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا مُوسَی بَاطِشٌ جَانِبَ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَکَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَوْ کَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَی اللَّهُ
یحیی بن قزعہ، ابراہیم بن سعد ابن شہاب ابوسلمہ و عبدالرحمن اعرج ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ دو آمیوں نے ایک دوسرے کو گالی دی ان میں ایک مسلمان اور دوسرا یہودی تھا، مسلمان نے کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو دنیا پر فضیلت دی، اور یہودی نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے موسی کو دنیا پر فضیلت دی مسلمان نے یہ سن کر اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے چہرے پر تھپڑ لگایا، یہودی نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گیا اور جو کچھ اس کے ساتھ اور مسلمان کے ساتھ گزرا تھا بیان کیا، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمان کو بلایا، اور اس کے متعلق دریافت کیا، اس نے سارا حال بیان کیا، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو (حضرت) موسی پر فضیلت نہ دو، اس لئے کہ لوگ قیامت کے دن بیہوش ہو جائیں گے، میں بھی ان لوگوں کے ساتھ بیہوش ہو جاؤں گا سب سے پہلے مجھے ہوش آئے گا میں دیکھوں گا کہ موسی عرش کا کونہ پکڑے ہوئے ہوں گے، میں نہیں جانتا کہ وہ بیہوش ہو کر مجھے سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے، یا ﷲ تعالی نے ان کو بیہوشی سے مستثنی کر دیا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
صحیح بخاری
کتاب
جھگڑوں کا بیان
باب
قرض دار کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے اور مسلمان اور یہودی میں جھگڑا ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر
2244
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ قَزَعَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ قَالَ الْمُسْلِمُ وَالَّذِي اصْطَفَی مُحَمَّدًا عَلَی الْعَالَمِينَ فَقَالَ الْيَهُودِيُّ وَالَّذِي اصْطَفَی مُوسَی عَلَی الْعَالَمِينَ فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِکَ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا کَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِکَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُخَيِّرُونِي عَلَی مُوسَی فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَصْعَقُ مَعَهُمْ فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا مُوسَی بَاطِشٌ جَانِبَ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَکَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَوْ کَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَی اللَّهُ
یحیی بن قزعہ، ابراہیم بن سعد ابن شہاب ابوسلمہ و عبدالرحمن اعرج ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ دو آمیوں نے ایک دوسرے کو گالی دی ان میں ایک مسلمان اور دوسرا یہودی تھا، مسلمان نے کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو دنیا پر فضیلت دی، اور یہودی نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے موسی کو دنیا پر فضیلت دی مسلمان نے یہ سن کر اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے چہرے پر تھپڑ لگایا، یہودی نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گیا اور جو کچھ اس کے ساتھ اور مسلمان کے ساتھ گزرا تھا بیان کیا، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمان کو بلایا، اور اس کے متعلق دریافت کیا، اس نے سارا حال بیان کیا، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو (حضرت) موسی پر فضیلت نہ دو، اس لئے کہ لوگ قیامت کے دن بیہوش ہو جائیں گے، میں بھی ان لوگوں کے ساتھ بیہوش ہو جاؤں گا سب سے پہلے مجھے ہوش آئے گا میں دیکھوں گا کہ موسی عرش کا کونہ پکڑے ہوئے ہوں گے، میں نہیں جانتا کہ وہ بیہوش ہو کر مجھے سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے، یا ﷲ تعالی نے ان کو بیہوشی سے مستثنی کر دیا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment