Wednesday, February 2, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2245


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جھگڑوں کا بیان
باب
قرض دار کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے اور مسلمان اور یہودی میں جھگڑا ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر
2245
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ جَائَ يَهُودِيٌّ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ضَرَبَ وَجْهِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِکَ فَقَالَ مَنْ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ ادْعُوهُ فَقَالَ أَضَرَبْتَهُ قَالَ سَمِعْتُهُ بِالسُّوقِ يَحْلِفُ وَالَّذِي اصْطَفَی مُوسَی عَلَی الْبَشَرِ قُلْتُ أَيْ خَبِيثُ عَلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ ضَرَبْتُ وَجْهَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَائِ فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَی آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَکَانَ فِيمَنْ صَعِقَ أَمْ حُوسِبَ بِصَعْقَةِ الْأُولَی
موسی بن اسمعیل، وہیب عمرو بن یحیی، یحیی، ابوسعید خدری سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ایک یہودی آیا اور کہا اے ابوالقاسم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تمہارے ایک ساتھی نے میرے منہ پر مارا، آپ نے پوچھا کس نے مارا؟ اس نے کہا ایک انصاری نے، آپ نے فرمایا اس کو بلاؤ، پھر پوچھا کیا تو نے اس کو مارا؟ اس نے کہا میں نے اس کو بازار میں قسم کھاتے ہوئے اس طرح پر سنا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے موسی کو بشر پر فضیلت دی، میں نے کہا اے خبیث! کیا محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر بھی اور مجھے کو غصہ آ گیا، اور میں نے اس کے چہرے پر مارا نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پیغمروں کا ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو، اس لئے کہ لوگ قیامت کے دن بیہوش ہو جائیں گے، سب سے پہلے زمین پھٹ کر میں باہر آؤں گا، اس وقت دیکھوں گا کہ موسی عرش کا ایک پا یہ پکڑے ہوئے ہوں گے- میں نہیں جانتا کہ وہ بیہوش ہونے والوں میں ہوں گے، یا ان کی پہلی (کوہ طور کی) بیہوشی کافی ہو گی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment