کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جھگڑوں کا بیان
باب
جھگڑنے والوں میں سے ایک کا دوسرے کے متعلق گفتگو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2251
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَی غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا وَکِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّی انْصَرَفَ ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ عَلَی غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا فَقَالَ لِي أَرْسِلْهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ اقْرَأْ فَقَرَأَ قَالَ هَکَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ لِي اقْرَأْ فَقَرَأْتُ فَقَالَ هَکَذَا أُنْزِلَتْ إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَؤا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ
عبد ﷲ بن یوسف، مالک ابن شہاب، عروہ بن زبیر، عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن خطا ب کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام کو سورہ فرقان اس کے خلا ف پڑھتے ہوئے سنا، جس طرح میں پڑھتا تھا، اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو پڑھایا تھا اور قریب تھا، کہ میں ان پر جلدی کر جاؤں، مگر میں نے صبر کیا یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہوئے پھر میں ان کے گلے میں چادر ڈال کر ان کو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لیکر آیا اور عرض کیا، کہ میں نے ان کو اس طریقہ کے خلاف پڑھتے ہوئے سنا جس طرح آپ نے مجھ کو پڑھایا ہے آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو، پھر ان سے فرمایا کہا پڑھ (انہوں نے پڑھا) تو آپ نے فرمایا اسی طرح آیت نازل ہوئی ہے پھر مجھ سے فرمایا کہ پڑھو، میں نے پڑھا تو آپ نے فرمایا، اسی طرح نازل ہوا ہے، قرآن سات طرح پر نازل ہوا ہے جسطرح تم کو آسانی ہو پڑھو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment