کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جھگڑوں کا بیان
باب
حال معلوم ہونے کے بعد گنا ہ کرنے والوں اور جھگڑا کرنے والوں کو گھر سے نکال دینے کا بیان
حدیث نمبر
2252
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَی مَنَازِلِ قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ
محمد بن بشار، محمد بن عدی، شعبہ، سعد بن ابراہیم، حمید بن عبدالرحمن، ابوہریرہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ میں نے ارداہ کیا کہ نماز کا حکم دوں اور نماز کھڑی ہو تو میں ان لوگوں کے گھروں میں جاؤں جو نماز میں شریک نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو جلا دوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment