Tuesday, February 15, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2312


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب
اگر کسی کی دیوار گرا دے تو ویسی بنا دے۔
حدیث نمبر
2312
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ رَجُلٌ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ يُصَلِّي فَجَائَتْهُ أُمُّهُ فَدَعَتْهُ فَأَبَی أَنْ يُجِيبَهَا فَقَالَ أُجِيبُهَا أَوْ أُصَلِّي ثُمَّ أَتَتْهُ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّی تُرِيَهُ وُجُوهَ الْمُومِسَاتِ وَکَانَ جُرَيْجٌ فِي صَوْمَعَتِهِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ لَأَفْتِنَنَّ جُرَيْجًا فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَکَلَّمَتْهُ فَأَبَی فَأَتَتْ رَاعِيًا فَأَمْکَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَتْ هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ فَأَتَوْهُ وَکَسَرُوا صَوْمَعَتَهُ فَأَنْزَلُوهُ وَسَبُّوهُ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّی ثُمَّ أَتَی الْغُلَامَ فَقَالَ مَنْ أَبُوکَ يَا غُلَامُ قَالَ الرَّاعِي قَالُوا نَبْنِي صَوْمَعَتَکَ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ لَا إِلَّا مِنْ طِينٍ
مسلم بن ابراہیم، جریر بن حازم، محمد بن سیرین، ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نبی اسرائیل میں ایک آدمی تھا جس کا نام جریح تھا وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں آئی اور اس کو بلایا، لیکن اس نے جواب نہ دیا، اور اپنے جی میں کہا کہ میں نماز پڑھوں یا اس کی بات کو جواب دوں، پھر اس کی ماں اس کے پاس آئی اور کہا یا ﷲ اس کو موت نہ دے جب تک کہ وہ فاحشہ عورت کا منہ دیکھ لے، ایک دن جریح اپنے عبادت خانہ میں تھا، ایک عورت نے کہا کہ میں جریج کو پھانس لوں گی، وہ اس کے سامنے آئی اور اس سے بات چیت کی، لیکن اس نے انکار کر دیا، تو وہ ایک چرواہے کے پاس گئی اور اپنے آپکو اس کے حوالہ کر دیا، چناچہ اس کے ایک بچہ پیدا ہوا- تو کہنے لگی یہ جریح کا ہے، لوگ جریج کے پاس آئے اس کے عبادت خانے کو توڑ دیا، اس کو عبادت خانے سے نیچے اتارا اور اس کو گالی دی، جریج نے وضو کیا اور نماز پڑھی، پھر اس لڑکے پاس آ کر کہا اے بچے تیرا باپ کون ہے؟ اس بچہ نے جواب دیا چرواہا لوگوں نے (جریج سے کہا) ہم تیرا عبادت خانہ سونے کا بنا دیں گے جریج نے کہا نہیں مٹی ہی کو بنوا دو (جیسا پہلے تھا-)



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment